تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ ہمیشہ شور مچانے والوں کو محفوظ نہیں رکھتی، بلکہ بعض اوقات وہ ان خاموش قدموں کو دوام عطا کرتی ہے جو ہنگاموں کے بیچ استقامت سے چلتے رہتے ہیں۔ جناب حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ انہی خاموش قدموں میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ جنگجو تھے، نہ حکمراں، نہ مشہور سیاستداں مگر اس کے باوجود ان کا کردار تاریخِ تشیع کے سب سے نازک موڑ پر فیصلہ کن ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔
غیبتِ صغریٰ کے دور میں امامِ زمانہ حضرت حجت بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا وجود اگرچہ نظروں سے اوجھل تھا، مگر ان کی ہدایت، ان کا نظم اور ان کی ولایت عملی صورت میں جاری تھی اور اس تسلسل کا سب سے مضبوط مظہر حسین بن روح نوبختی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ذات تھی۔
غیبت کو اکثر غیر موجودگی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ شیعہ فکر میں غیبت عدم کا نام نہیں بلکہ امتحان کا نام ہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں امت کو یہ سیکھنا تھا کہ امامؑ کے بغیر نہیں بلکہ امامؑ کے ساتھ، مگر ظاہری رابطے کے بغیر کیسے جیا جاتا ہے۔
اس مرحلے میں نائبِ خاص کا کردار محض پیغام رسانی نہیں بلکہ فکری توازن قائم رکھنے والا ہوتا ہے۔ جناب حسین بن روح نوبختی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ذمہ داری کو محض نبھایا نہیں بلکہ اسے ایک علمی روایت میں بدل دیا۔
خانوادہ نوبختی، عباسی دور میں عقلی اور فلسفی مباحث کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ مگر جناب حسین بن روح نوبختی رحمۃ اللہ علیہ کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے عقل کو ایمان کا خادم بنایا، فلسفہ کو وحی کے تابع رکھا اور علم کو تقویٰ کے ساتھ جوڑا۔ یہی امتزاج انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ بغداد کے فکری طوفان میں بھی اہلِ بیت علیہم السلام کے عقائد کا وقار کے ساتھ دفاع کریں۔
نیابتِ خاص کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ نائب کو اپنی ذات کو مٹا دینا پڑتا ہے۔ حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ کی زندگی اس اصول کی عملی تصویر ہے۔ وہ خود کبھی مرکز نہ بنے، نہ اپنے علم کا اشتہار کیا، نہ اپنے خاندان کا حوالہ دیا بلکہ ہر لمحہ امامؑ کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظام کے طور پر یاد رکھتی ہے۔
اگر نیابت کا سب سے اہم ستون تلاش کیا جائے تو وہ راز داری ہے۔ جناب حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ نے راز داری کو محض حکمت نہیں بلکہ عبادت بنا دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک بے احتیاط جملہ پوری امت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اسی لئے وہ سوالات کے جواب میں خاموشی کو ترجیح دیتے اور جہاں خاموشی ممکن نہ ہوتی وہاں اشارات میں گفتگو کرتے۔
جب عباسی حکومت نے جناب حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی کو قید کیا تو یہ سمجھا گیا کہ نیابت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی قید نے یہ ثابت کر دیا کہ نیابت کسی جسم کی محتاج نہیں بلکہ کسی روح سے وابستہ ہوتی ہے۔
قید میں بھی توقیعات کا سلسلہ جاری رہا اور شیعہ معاشرہ فکری طور پر منقطع نہ ہوا۔ یہ واقعہ نیابت کے روحانی پہلو کو واضح کرتا ہے۔
غیبت کے دور میں سب سے بڑا خطرہ خارجی دشمن نہیں بلکہ داخلی انتشار تھا۔ جھوٹے مدعیانِ نیابت، غالی افکار اور شکوک و شبہات—یہ سب جناب حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ کے دور میں سر اٹھا رہے تھے۔
انہوں نے شدت سے نہیں، تکفیر سے نہیں بلکہ دلیل، تحمل اور توقیعات کی روشنی میں ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔
اگرچہ حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ نے باقاعدہ تصنیفات نہیں چھوڑیں، مگر ان کی گفتگو، ان کے فیصلے اور ان کی خاموشی بھی ادبِ نیابت کا حصہ ہیں۔ یہ وہ ادب ہے جس میں الفاظ کم، وزن زیادہ اور مفہوم گہرا ہوتا ہے۔ یہی ادب بعد کے فقہی و کلامی اسلوب کی بنیاد بنا۔
18 شعبان المعظم سن 326 ہجری میں جناب حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی کی وفات صرف ایک انسان کی موت نہیں تھی، بلکہ غیبتِ صغریٰ کے ایک مکمل مرحلے کا اختتام تھی۔ ان کے بعد آنے والا دور، غیبتِ کبریٰ کی تیاری کا زمانہ تھا اور یہ تیاری حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ جیسے افراد ہی کی مرہونِ منت تھی۔
جناب حسین بن روح نوبختی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اپنی مختصر مگر بامقصد زندگی سے پیغام دیا کہ دین کی حفاظت صرف تلوار سے نہیں بلکہ حکمت سے ہوتی ہے، امامت کی نصرت آواز سے نہیں، وفاداری سے ہوتی ہے اور انتظار، ایک زندہ شعور کا نام ہے۔
سلام ہو اس مردِ خاموش پر جس کی خاموشی نے امامت کی صدا کو زندہ رکھا۔









آپ کا تبصرہ